30 ستمبر 2013 - 20:30
اوبامہ, نتن یاہو ملاقات، دباو اور متضاد بیان کا سلسلہ جاری

اسرائيل کے وزير ا‏عظم بنيامين نتن یاہو نے امريکي صدر سے کہا ہے کہ وہ ايران کے خلاف پابنديوں کو نرم نہ کريں ۔

ابنا: صہیوني ریاست کے وزير اعظم بنيامين نتن یاہو نے پير کو وائٹ ہاؤس ميں امريکي صدر اوباما سے ملاقات ميں ان سے کہا کہ وہ ايران کے خلاف عائد پابنديوں کو کم نہ ہونے ديں ۔ اسرائيلي وزير ا‏‏عظم ايران کي پرامن ايٹمي سرگرميوں پر ايک ايسے وقت اپني تشويش کا اظہار کررہے ہيں جب اسرائيل کے پاس سيکڑوں ايٹمي وار ہيڈ موجود ہيں ۔ پريس ٹي وي کے مطابق اس ملاقات ميں امريکي صدر باراک اوباما نے بھي کہا کہ واشنگٹن کو آنکھيں کھول کر تہران کے ساتھ مذاکرات کرنے ہوں گے ۔باراک اوباما نے اسرائيلي وزير ا‏عظم کے ساتھ ہونے والي اس ملاقات ميں متضاد اور دو پہلو بيان ديتے ہوئے کہا کہ امريکا نے ايران کے سلسلے ميں کسي بھي آپشن کو ميز سے ختم نہيں کيا اور ايران کے خلاف فوجي کاروائي کا آپشن بھي ميز پر موجود ہے ۔ امريکي صدر نے اسرائيلي وزير اعظم کو خوش کرنے کے لئے کہا کہ اسلامي جمہوريہ ايران کو چاہئے کہ وہ اپنے اقدامات کے ذريعے عالمي برادري کو اطمينان دلائے ۔اوباما کا يہ بيان ايک ايسے وقت سامنے آيا ہے جب انہوں نے نيويارک ميں اسلامي جمہوريہ ايران کے صدر حسن روحاني کو فون کرکے اس بات کا اعتراف کيا ہے کہ  پرامن ايٹمي ٹکنالوجي سے استفادہ ايران کے عوام کا حق ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ ہم ايران کے ايٹمي معاملے کو ہرحال ميں سياسي طريقے سے حل کرنا چاہتے ہيں ۔

.....

/169